12 اکتوبر، 2026 تک پاکستان میں اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر تقریباً 283.41 روپے میں خریدا اور 284.98 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ اسی وقت اسٹیٹ بینک کا انٹربینک ریٹ تقریباً 277.21 روپے ہے، یعنی دونوں کے درمیان +2.8% کا فرق ہے۔
ETCurrency یہ ریٹ ہر گھنٹے P2P کرپٹو (USDT) مارکیٹ کی بولیوں اور دیگر ایکسچینج ذرائع سے مرتب کرتا ہے۔ یہ ریٹ اشاراتی ہے؛ ایکسچینج کمپنیوں کا حقیقی ریٹ رقم، شہر اور ادائیگی کے طریقے کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔
اوپن مارکیٹ اور انٹربینک ریٹ میں فرق کیوں؟
جب بینکوں کے پاس ڈالر کی فراہمی محدود ہو، درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ ہو یا زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوں تو افراد اور تاجر بینک سے باہر ڈالر خریدتے ہیں۔ پاکستان میں اسی وجہ سے اوپن مارکیٹ ریٹ عموماً انٹربینک ریٹ سے اوپر رہتا ہے۔
پریمیم (فرق) ڈالر کی طلب اور رسد کے دباؤ کا پیمانہ ہے۔ فرق بڑھے تو روپے پر دباؤ بڑھ رہا ہے؛ کم ہو تو مارکیٹ مستحکم ہو رہی ہے یا ریٹ آزاد کیا جا رہا ہے۔
انٹربینک ریٹ بمقابلہ اوپن مارکیٹ ریٹ
آج انٹربینک ریٹ 277.21 روپے اور اوپن مارکیٹ خرید ریٹ 283.41 روپے ہے۔ یعنی 100 ڈالر بینک میں 27,721 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 28,340 روپے کے برابر ہیں۔
بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر عموماً انٹربینک یا بینک ریٹ پر تبدیل ہوتی ہیں، اس لیے وصول کنندہ کو اوپن مارکیٹ سے کم رقم مل سکتی ہے۔ فرق جان کر بہتر ذریعہ منتخب کیا جا سکتا ہے۔
اس ریٹ کو کیسے پڑھیں
خرید ریٹ وہ ہے جو ایکسچینج آپ سے ڈالر خریدنے پر ادا کرتا ہے، اور فروخت ریٹ وہ ہے جو آپ کو ڈالر بیچنے پر لیتا ہے؛ دونوں کا فرق ایکسچینج کا مارجن ہے۔
ریٹ ہر گھنٹے اپڈیٹ ہوتا ہے، اور ایک گھنٹے سے پرانا ڈیٹا موجودہ ریٹ کے طور پر نہیں دکھایا جاتا۔ کسی بھی لین دین سے پہلے آج کا ریٹ، رقم اور ادائیگی کا طریقہ تصدیق کر لیں۔